AzadariNetwork Tibe Imam

 
     
 

ہندکے طبیب کے ساتھ امام جعفرصادق(ع) کی گفتگو

امام جعفر صادق (ع) جب منصور کے دربار میں پہونچے تو وہاں ایک طبیب ہندی ایک کتاب طب ہندی منصور کو پڑھ کر سنا رہا تھا، آپ بھی بیٹھ کر خاموشی سے سُننے لگے۔ جب وہ فارغ ہوا تو آپ کی طرف متوجہ ہوا۔ اور منصور سے پوچھا، یہ کون ہیں۔منصور نے جواب میں کہا ، یہ عالمِ آلِ محمد ہیں۔ طبیب ہندی آپ سے مخاطب ہوا اور بولا، آپ بھی اس کتاب سے کچھ فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، نہیں۔ اُس نے کہا، کیوں؟ آپنے فرمایا جو کچھ میرے پاس ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہارے پاس ہے۔ اس نے کہا، آپ کے پاس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہم گرمی کا سردی اور سردی کا گرمی سے۔ رطوبت کا خشکی سے اور خشکی کا رطوبت سے علاج کرتے ہیں۔ اور جو کچھ رسول خدا نے فرمایا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور انجام کار خدا پر چھوڑتے ہیں۔ طبیب ہندی نے کہا وہ کیا ہے؟ امام:۔ فرمودئہ رسول یہ ہے کہ شِکم پر بیماری کا گہرا اثر ہوتا ہے اور پرہیز ہر بیماری کا علاج ہے جسم جس چیز کا عادی ہو گیا ہو اُس سے اُس کو محروم نہ کرو۔ طبیب ہندی:۔ مگر یہ چیز طِب کے خلاف ہے امام:۔شاید تمہارا یہ خیال ہے کہ میں نے یہ علم کتاب سے حاصل کیا ہے طبیب ہندی:۔اسکے علاوہ بھی کیا کوئی صورت ہے امام:۔میں نے یہ علم سوائے خدا کے کسی سے حاصل نہیں کیا۔ لہذا بتلاوٴ ہم دونوں میں کس کا علم بلند و برتر ہے۔ طبیب: کیا کہاجائے میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید میں آپ سے زیادہ عالم ہوں۔ امام:۔اچھا میں تم سے کچھ سوال کرسکتا ہوں؟ طبیب:۔ ضرور پوچھئے۔ امام:۔یہ بتاوٴ کہ آدمی کی کھوپڑی میں کثیر جوڑ کیوں ہیں،سپاٹ کیوں نہیں طبیب:۔کچھ غور و خوض کے بعد ، میں نہیں جانتا امام:۔اچھا پیشانی پر سر کی طرح بال کیوں نہیں ہیں طبیب:۔میں نہیں جانتا امام:۔پیشانی پر خطوط کیوں ہیں طبیب :۔ معلوم نہیں امام:۔آنکھوں پر اَبرو کیوں قرار دیئے گئے ہیں۔ طبیب:۔میں نہیں جانتا امام:۔ آنکھیں بادام کی شکل کی کیوں بنائی ہیں طبیب:۔معلوم نہیں امام:۔ناک دونوں آنکھوں کے درمیان کیوں ہے طبیب:۔مجھے معلوم نہیں امام:۔ ناک کے سوراخ نیچے کی طرف کیوں ہیں طبیب:۔ معلوم نہیں امام:۔ہونٹ، منھ کے سامنے کیوں بنائے ہیں طبیب :۔ معلوم نہیں امام:۔ آگے کے دانت باریک و تیز اور داڑھیں چپٹی کیوں ہیں طبیب :۔ معلوم نہیں امام:۔مرد کے داڑھی کیوں ہے طبیب :۔ معلوم نہیں امام:۔ہتھیلی اور تلوے میں بال کیوں نہیں ہیں طبیب:۔ معلوم نہیں امام:۔ناخُن اور بال بے جان کیوں ہیں۔ طبیب :۔ معلوم نہیں امام:۔دِل صنوبری شکل کا کیوں ہے طبیب:۔ معلوم نہیں امام:۔پھیپھڑے کے دو حصے کیوں ہیں اور متحرک کیوں ہیں۔ طبیب:۔معلوم نہیں امام:۔جگر گول کیوں ہے طبیب:۔معلوم نہیں امام:۔گُھٹنے کا پیالہ آگے کی طرف کیوں ہے۔ طبیب:۔ معلوم نہیں امام:۔ میں خدائے داناوبرتر کے فضل سے ان تمام باتوں سے واقف ہوں۔ طبیب:۔فرمایئے میں بھی مستفید ہوں امام: غورسے سُن

۱)۔آدمی کی کھوپڑی میں مختلف جوڑ اس لئے رکھے گئے ہیں تا کہ دردِ سر اُسکو نہ ستائے ۲)۔سر پر بال اِس لئے اُگائے تاکہ دماغ تک روغن کی مالِش کا اثر جاسکے،اور دماغ کے بُخارات خارج ہو سکیں، نیز سردی و گرمی کا بہ لحاظِ وقت لباس بن جائے ۳)۔پیشانی کو بالوں سے خالی رکھا تا کہ آنکھوں تک نور بے رکاوٹ آسکے۔ ۴)۔ پیشانی پر خطوط اِس لئے بنائے ہیں تا کہ پسینہ آنکھوں میں نہ جائے۔ ۵)۔آنکھوں کے اوپر اَبرواِسلئے بنائے تا کہ آنکھوں تک بقدر ضرورت نور پہنچے۔ دیکھوجب روشنی زیادہ ہو جاتی ہے تو آدمی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر چیزوں کو دیکھتا ہے۔ ۶)۔ناک دونوں آنکھوں کے درمیان اس لئے بنائی ہے تاکہ روشنی کو برابر دو حصوں میں تقسیم کردے تاکہ معتدل روشنی آنکھوں تک پہونچے ۷)۔آنکھوں کو بادام کی شکل اس وجہ سے دی تاکہ آنکھوں میں جو دوا سلائی سے لگائی جائے اُس میں آسانی ہو اور میل آنسووٴں کے ذریعہ بہ آسانی خارج ہو سکے۔ ۸)۔ناک کے سوراخ نیچے کی طرف اِسلئے بنائے تاکہ مغز کا میل وغیرہ اس سے خارج ہو اور خوشبو بذریعہ ہوا دماغ تک جائے اور لقمہ منھ میں رکھتے وقت فورًامعلوم ہو جائے کہ غذا کثیف ہے یا لطیف۔ ۹)۔ہونٹ، مُنھ کے سامنے اِسلئے بنائے کہ دماغ کی کثافتیں جو ناک کے ذریعہ آئیں منھ مین نہ جاسکیں۔ اور خوراک کو آلودہ نہ کردیں۔ ۱۰)داڑھی اسلئے بنائی تاکہ مرد اور عورت میں تمیز کی جاسکے ورنہ بڑا شرمناک طریقہ اختیار کرنا پڑتا۔ ۱۱)۔آگے کے دانت باریک اور تیز اِس لئے بنائے گئے تاکہ غذا کو کاٹ کرٹکڑے ٹکڑے کر سکیں اور داڑھوں کو چوڑے(چَپٹے) اِس لئے بنائے تاکہ وہ غذا کو پیس سکیں۔ ۱۲)۔ہاتھوں کی ہتھیلیاں بالوں سے اِس لئے خالی رکھیں تاکہ قوتِ لامسہ(چھونے کی قوت) صحیح کام انجام دے سکے۔ ۱۳)۔ناخُن اور بالوں میں جان اِس لئے نہیں ، کہ انکے کاٹنے میں تکلیف کا سامنا باربار نہ ہو۔ ۱۴)۔دِل صنوبری شکل اِسلئے دی گئی تاکہ اسکی باریک نوک پھیپھڑوں میں داخل ہو کر انکی ہوا سے ٹھنڈی رہے۔ ۱۵)۔پھیپھڑوں کو دو حصوں میں اس وجہ سے تقسیم کیا گیا ہے کہ دِل دونوں طرف سے ہوا حاصل کر سکے۔ ۱۶)۔جِگر کو گول اِسلئے بنایا ہے تاکہ معدہ کی سنگینی اپنا بوجھ اس پر ڈال کر زہریلے بُخارات کو خارج کر دے۔ ۱۷)۔گُھٹنے کا پیالہ آگے کی طرف اسلئے ہے تاکہ آدمی بہ آسانی را ہ چل سکے، ورنہ راستہ چلنا مشکل ہو جاتا۔ اِنسان کے جسم میں ہڈیاں کتنی ہیں؟ طبیبِ نصرانی نے بڑے اِحترام سے امام سے درخواست کی کہ اِنسان کے جسم کی بناوٹ کی کچھ وضاحت فرمائیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے اِنسان کو بہ لحاظ ہیکل اِستخوانی دو سو آٹھ حصوں سے ترکیب دیا ہے۔ اِنسان کے جسم میں بارہ اعضاء ہیں ۔ سر، گردن، دو(۲) بازو، دو کلائی، دو (۲)ران،دو(۲) ساق (پنڈلیاں) اور دو پہلو اور تین سو ساٹھ(۳۶۰)رگیں ، ہڈیاں،پٹھے، اور گوشت۔۔ رَگیں جسم کی آبیاری کرتی ہیں۔ھڈیاں بدن کی حفاظت کرتی ہیں۔اور گوشت ہڈیوں کا تحفظ کرتا ہے۔ اور اس کے بعد پَٹھے گوشت کی حفاظت کرتے ہیں۔۔ ہر ہاتھ میں اِکتالیس ہڈیاں ہیں۔پینتیس ہڈیوں کا ہتھیلی اور انگلیوں سے تعلق ہے۔اور دو کا تعلق کلائی سے اور ایک کا تعلق بازو سے اور تین کا کندھے سے تعلق ہے۔ ہر پیر میں تینتالیس ہڈیاں پیدا کی ہیں۔ جن میں پینتیس قدم میں اور دُو پنڈلی میں اور تین زانو میں اور ایک ران میں اور دو نشیمن گاہ میں یعنی بیٹھنے کی جگہ میں۔۔ ریڑھ کی ہڈی میں اَٹھارہ ٹکڑے ہیں۔ گردن میں آٹھ، سر میں چھتیس ٹکڑے ہیں۔ اور منھ میں اٹھائیس یا بتیس دانت ہیں۔ اِس زمانہ میں جو ترکیب اِنسان کی ہڈیوں کو شمار کیا گیا ہے اُس میں اور فرمانِ امام میں اگر تھوڑا فرق ہو تو وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ بعض ان دو ہڈیوں کو جو بہت ہی متصل ہیں ایک ہی شمار کیا گیا ہے۔ امام علیہ السلام نے صدیوں قبل بغیر کسی آلہ اور فن معلومات کے تحقیق طِبی فرمائی ہے وہ آپ کے علم ِ امامت کا بَیّن ثبوت ہے۔ دورانِ خون یہ مسئلہ جو اطباء ِ مشرق نے بعد میں معلوم کیا ہے رازی کا بیان ہے کہ اسکو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے صدیوں پہلے کتاب توحیدِ مفضل میں بیان فرما دیا ہے۔ امام علیہ السلام نے اپنے شاگرد( مفضل)کو مخاطب کر کے فرمایا، اے مفضل! ذرا غذا کے بدن میں پہونچنے پر غور کرو، اور دیکھو کہ اس حکیم مطلق نے اس عجیب کارخانہ کو کس حکمت اور تدبیر سے چَلایا ہے۔ غذا منھ کے ذریعہ پہلے معدہ میں جاتی ہے۔ پھر حرارتِ غریری اس کو پکاتی ہے اور پھر باریک رگوں کے ذریعہ جگر میں پہونچتی ہے۔ یہ رگیں غذا کو صاف کرتی ہیں تا کہ کوئی سخت چیز جگر کو تکلیف نہ پہونچا دے۔ کیونکہ جگر ہر عضو سے زیادہ نازک ہے۔ ذرا اللہ کی اس حکمت پر غور کرو کہ اُسنے ہر عضو کو کس قدر صحیح مقام پر رکھاہے۔اور فُضلہ کے لئے کیسے ظروف(پِتہ، تِلّی اور مثانہ) خلق فرمائے تاکہ فُضلات جسم میں نہ پھیلیں، اور تمام جسم کو فاسد نہ بنا دیں۔ اگر پِتہ نہ ہوتا تو زَرد پانی خون میں داخل ہو کر مختلف بیماریاں مثلًا یرقان وغیرہ پیدا کر دیتا۔ اگر مثانہ نہ ہوتا تو پیشاب خارج نہ ہوتا اور پیشاب خون میں داخل ہو کر سارے جسم میں زہر پھیلا دیتا

ہدایاتِ حضر ت امام رضا علیہ السلام

جنوری:۔ اس ما ہ میں بلغم پیدا ہوتا ہے۔ گرم پانی کے چند گھونٹ پینا مفید ہے۔ دن کے اولین حصّہ میں حمال اور مالشِ مفید ہے۔ گرم سبزیاں اور پودینہ نیز مچھلی مفید ہے۔

فروری:۔ ٹھنڈی چیزوں کے استعمال سے پرہیز چائیے ۔ پودینہ ، ادرک ، لہسن و غیرہ گرم اشیا ءکا استعمال مفید ہے۔

مارچ:۔ اِس ماہ چرند پرند کا گوشت کم استعمال کرنا چاہئیے ۔ خشک میوہ جات لہسن، پیاز کا استعمال زیادہ چاہئیے۔ سیرو تفریخ اور ورزش زیادہ مفید ہے۔

اپریل:۔ زیادہ نمکین اشیاءبڑا گوشت اور بھینس کا دودھ استعمال نہ کریں۔ دن کے اوّلین حصّہ میں غسل مفید ہے۔

 مئی:۔ غذا میں سرکہ کا استعمال کریں۔ تیل کی مالِش اور عطر سونگھنا مفید ہے۔ ورزش سے احتراز کریں۔

 جون:۔ زیادہ محنت سے گریز کریں۔ چربی اور گوشت اور مسور کی دال سے پرہیز کریں ۔ سبزیاں ، تازہ پھل ، میوے ، مچھلی ،مرغی کھائیں۔

جولائی:۔ نہار مُنہ تھوڑا کر کے ٹھنڈا پانی پینا لھیف اور زردہضم غذائیں کھانا اور پھولوں کا سو نگھنا مفید ہے۔

اگست:۔ اس ماہ جلّا ب لینا مفید ہے۔ کثرت سے گوشت یا حلوہ کھانا اور بلا عذر غسل کرنا مضرِ صحت ہے۔

ستمبر:۔ رات کو پانی پینا صحت کے لئے مضر ہے۔ ساگ پودینہ ادرک سے پرہیز کریں۔ نہار منہ ایک گھونٹ پانی پینا سیر و تفریخ اور ورزش مفید ہے۔

اکتوبر:۔ چربی اور مصالہ دار گوشت ، اچار، چٹنی سے پرہیز چائیے ۔ پانی کم پینا چاہے۔ ورزش مفید ہے۔

نومبر:۔ رات کو پانی پینا صحت کے لئے مضر ہے۔ غسل میں کمی چائیے ۔ ساگ پودینہ ادرک سے پرہیز چائیے۔ نہار منہ ایک گھونٹ پانی پینا ، سیر و تفریخ اور ورزش مفید ہے۔

 دسمبر:۔ لطیف غذائیں چھوٹا گوشت ، نیم برشت انڈہ ، مچھلی ، لہسن اور پیاز کا استعمال بھی مفید ہے۔

فرموداتِ امام علی رضا علیہ السلام

انار کھانے سے بچوں کی زبان صاف ہوتی ہے۔

جمعہ کے دن ناخن کاٹنے سے فقرو افلاس دفع ہوتی ہے۔

 جس شحض کی بینائی ضعیف ہو گئی ہو اسے لازم ہے کہ سوتے وقت چار سلائیاں دائیں آنکھ میں اور یتن سلائیاں بائیں آنکھ میں سُرمہ کی لگا یا کرے۔

 جوش دئیے ہوئے پانی سے جسے سات مرتبہ جوش دیا گیا ہو۔اور ہر مرتبہ برتن بدل گیا ہو ،پینے سے بُخار جاتا رہتا ہے۔ اور پاﺅں اور پنڈلیوں میں قوت آجاتی ہے۔

مولا نے فرمایا کہ اپنے بیماروں کو چقندر کے پتے کھلاﺅ۔کہ اِن میں شفا ہی شفا ہے ۔ ان پتوں کو کھا کر مریض چین سے سوتا ہے۔

کہ کاسنی کھانے سے ہر درد کو آرام ہوتا ہے۔

ایک سخص نے مولا سے پیچش کے درث کی شکایت کی، آپ نے فرمایا کہ اخروٹ لو آگ پر بھُون لو اور چھیل کر کھا لو۔

 ستّو بہترین خوداک ہے۔ بھوکہ کا اس سے پیٹ بھرتا ہے اور پیٹ بھرے کا کھانا ہضم ہو تا ہے۔

ایک شخص نے حضر ت امام رضا علیہ ا لسّلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اولاد کی کمی کی شکایت کی۔ان حضرت نے فرمایا کہ استغفار پڑھا کر اور مرغی کا انڈا پیاز کے ساتھ کھایا کر۔

 نہار منہ خربوزہ کھانے سے فالج پیدا ہوتا ہے۔

 انجیر منہ کی بدبودُور کرتا ہے۔ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔بال بڑھاتا ہے۔مختلف دردوں کو دُور کرتا ہے۔ اور انجیر بہشت کے میووںمیں زیادہ مشابہ ہے۔ اس کو کھانے کے بعد کسی دوسری دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔

 جس شخص کا نطفہ متغیّر ہو جائے یعنی اس سے اولاد پیدا نہ ہوتی ہو اس کو چا ہیے کہ دُودھ میں شہد ملا کر پئے۔

فرمودات حضرت اما م جعفر صِادق علیہ السلام

خربوزہ کھانے سے مثانہ صاف ہوتا ہے

بخار ، سر درد ، آشوب چشم اور دردوں کے امراض کے لیے کالا دانہ شفا دیتا ہے۔

امرود کھانے سے دل اور پیٹ کے امراض دفع ہو جاتے ہیں۔

سیب کھانے سے معدہ صاف ہوتا ہے اور نکسیر کا علاج ہے

کنگھا زیادہ کرنے سے بلغم دفع ہوتا ہے

فرمودات ِ حضرت اما م موسٰی کاظم علیہ السلام

گاجر کھانے سے قوتِ باہ میں اضافہ اور خوں پیدا ہوتا ہے۔

فرموداتِ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام

چاول اور کچاّ خرما بواسیر کو دفع کرتا ہے

مرگی کا علاج

حضرت امام رضاسے روا یت ہے کہ ایک دفعہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا اس پر مرگی کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ اور وہ بے ہوش ہے آپ نے فورا ایک پانی کا پیالہ طلب فرمایا او ر اس پر سورہ حمد و سورہ اخلاص و معوذتین کو دم کیا اور اس کے سر اور چہرہ پر چھڑک دیا فوراُاس کو ہوش آگیا۔

 بہار کے موسم میں کیا کھانا چاہیے

حضر ت امام رضا علیہ ا لسّلام نے فرمایاکہ بہار کے پےلے مہینے میں مناسب غزاﺅں سے مراد وہ خوراک ہیں جو زیادہ بھارینہ ہوں۔ گوشت ،انڈہ ، میٹھا شربت مفید ہیں۔ ہلکی غذاﺅں سے مراد وہ خوراک ہے جو آسانی سے ہضم ہو سکے ۔ اور جزو و بدن بن سکے ۔ اور جس کا فضلہ کم سے کم ہو۔ بہار کے موسم میں ہمارے بدن کے خلئے ان طبعی عوامل کیمطابق جو موسمِ بہار میں موجود ہو تی ہے ۔عام طور پر ہمارے بدن کے بنانے میں مصروف رہتی ہیں۔ اور ہمارے بدن کا جہاز مردہ سیلوں (خلیوں) کو مختلف صورتوں میں خارج کرتا رہتا ہے۔اور ان کی جگہ تازہ اور جوان خلیوں کی تعمیر میں لگا رہتا ہے۔پس اچھی غذاﺅں کا استعمال جو موسم اور ہمارے مزاج کے عین مطابق ہوں ہمارے بدن کے خلیوں کو جلد بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اور ایسے کھانوں کے جضلے کم سے کم تر ہو تے ہیں۔ موسم بہار میں پیاز اور سُرکہ کھانے سے پرہیز ضروری ہے۔ جلاب لینا موسمِ بہار میں مفید ہے۔ فصد کرنا نشتر لگا نا (رگ زدنی) اور حجامت کرنا بھی خوب ہے۔
بہترین موسم جلاب لینے کا بہار کے ابتدائی دن ہیں کیونکہ اس وقت بدن کے خلئے بیدار اور جوان ہوتے ہیس ۔ اس لیے وہ جلدی سے کمزوری اور کم خونی پر قابو پا لیتے ہیں ۔ چنانچہ معدے کے درودیوار میں اگر کوئی زخم پیدا ہو تو اس کو فوراً ٹھیک کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جلاب لینے سے (کم مقدارمیں) ہمارا ہاضمہ ٹھیک ہو جاتا ہے اور بھو ک بڑھ جاتی ہے۔(باحوالہ حالاتِ زندگی مولا رضاؑ ،تالیف: سیّد عبدالحُسین رضائی ، صفہ نمبر ۱۶۱

حجامت کے بارے میں

جب حبامت بنانے کی نیت پیدا ہو تو اُس کا وقت چاند کے ۲۱ تاریخ سے ۵۱ تا ریخ تک کے درمیان مقرر کریں۔ اور ان چند دنوں کے علاوہ حجامت نہ کریں۔مگر جب سخت مجبوری ہو کیونکہ مہینے کے گھنٹے بڑھنے سے خون میں کمی اور زیادتی واقع ہو تی ہے۔جس کی عمر ۰۲ سال ہو جائے اسے ہر بیں روز کے بعد میں ایک بار حجامت کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح تیس(۰۳) سالہ شخص کے لیے ہر تیسویں دن اور چالیس سالہ شخص کے لیے ہر چالیسویس دن ایک بار حجامت بنانی ضروری ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر آدمی اپنی عمر کے مطابق اسی نسبت سے حجامت کا وقفہ مقرر کر۔ طبعی علاچ معالجہ میں سے ایک بہترین علاج ”حجامت “ ہے۔اور اسی طررگ مارنا فصد کرنا جو کہ دورِ کزشتہ میں بہت عام تھا۔ لیکن افسوس کہ آج کل متروک کردیا گیا ۔ قدیم طب میں فساد خون کو ایک عمدہ مرص تسلیم کیا جاتا تھا۔ اور اسی سبب سے خون نکالنے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ خوش قسمتی سے ترقی یافتہ ممالک میں بھی خون لینا بہتر ین علاج مانا جاتا ہے۔ خون نکالنے سے کافی بیماربوں کا خو د بخود علاج ہو جاتا ہے۔ حجامت بنانے سے جو خون باہر آجاتاہے وہ ان چھوٹے چھوٹے رگوں کا خون ہے جو گوشت سر کے اندر چھپی ہوتی ہیں۔ حجامت گردن کے پیچھے سے سر کی گودی تے بنانی چاہیے۔جو دردِ سر کے لیے فائدہ مند ہے۔ حجامت بنانے سے صورت سر اور آنکھوں میں جو درد ہوتا ہے وہ جاتا رہتا ہے۔ اور انسان کی سستی بھی دور ہو جاتی ہے۔ یہ دانتوں کے درد کے لیے بھی بے جد فائدہ مند ہے۔
بو علی سینا اپنی مشہور کتاب ”القانون“ میں رقم طراز ہے ۔ حجامت پیشانی کے کونوں سروں پر درد کے لیے مفید ہے۔ آنکھوں سے پانی بہنے کو بند کردیتا ہے۔ اور منہ کی بدبو کو بھی درد کر دیتا ہے ۔ حجامت سر کے سارے اعضاءکو بے حد فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً لب ورخسار، منہ اور دانت، کان اور آنکھ ، ناک اور حلق، لیکن حجامت یاداشت کو کم کرتا ہے اور بھول پن(نسیان) کو بڑھانا ہے

 ۔ بہا ر کا دوسرا مہینے میں کیا کھانا چاہے

بہار کے دوسرے مہینے میں ہوائیں زیادہ تر مشرق کی طرف سے چلتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ بادِ بہای سے فائدہ اُٹھانے کے آرزو مند ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ شمال مغرب کی طرف اپنا سکونت اختیار کریں۔ اس مہینے میں خوراک کو اکثر خوب گرم کیا کریں اور اس کے بعد کھائیں۔ کیونکہ اس مہینے میں بلغم کا طوفان شروع ہو جاتا ہے ۔ زیادہ پانی والی غذائیں بلغم کو برھاتی ہیں ۔ بہار کے اختتامی مہینے میں گائے کا گوشت کھانا اور سر کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔ ترش دہی بھی ممنوع ہے۔ اس مہینے میں حمام میں جانا مفید ہے۔ اس شرط کہ د ن کے پہلے حصے میں ہو ۔ اور کھانا کھانے سے پہلے اپنے اعضاءو جوارح کو سخت جسمانی کا موں میں لگانا مفید نہیں ہے۔(باحوالہ حالاتِ زندگی مولا رضاؑ ،تالیف: سیّد عبدالحُسین رضائی ، صفہ نمبر۳۶۱)

موسم گرماکے حوالے سے ہدایات

بلغم اور خون کی رطوبت گرمی میں ختم ہو جاتے ہیں۔ گرمی میں زیادہ گوشت کا استعمال خصوصاً ، چربی والا گوشت اور زیادہ جسمانی مشقت کی ممانعت کی گئی ہے۔ پیاز سلاد دودھ اور گرمی کے موسم میں ترش اور میٹھے میووں کا استعمال بہ حد مفید ہے۔ زردی اور یر قان کا سادہ ترین علاج پیاز کا استعمال ہے۔ خاص طور پر اگر پانی میں اُبال کر کھایا جائے ۔پیاز کا استعمال پوشیدہ امراض کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اس مہینے میں ایک سالہ بکرے ، دنبے، پرندوں کا گوشت پالتومرغی کا گوشت کا استعمال بہتر ہے۔ اور چوپالوں کا گوشت جتنی بھی جوانی میں ہوں بہتر ہے۔ گرمی میں لسی شربت دودھ اور مچھلی کا استعمال بہت ضروری اور مفید ہے۔ تمام خوراکوں میں بہترین غذا دود ھ ہے۔ نمکین اور کھڑے ہوئے پانی کی مچھلی بے فائدہ ہوتی ہے۔ وہ مچھلی جس کے بدن پر چھلکے نہیں ہوتے وہ بے فائدہ ہوتی ہے۔ بے چھلکے مچھلی کے استعمال سے خون زہریلا ہو جاتا ہے۔ اور جلدی خارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس لیے اسلام میں بے چھلکے والی مچھلی کا استعمال ممنوع ہے

گرمی کے دوسرے مہنے کی ہدایات

اس ماہ حرات بڑھ جاتی ہے۔ اور پانی کم ہو جاتا ہے۔ اس ماہ ٹھنڈے پانی کا استعمال زیادہ کرئیں۔ گرمی کے موسم میں پانی کا زیادہ پینا بہت فائدہ مند ہے۔ اور اچھے نتائج حاصل کرنے کے لیے ناشتے کے بعد پانی پیا جائے۔بھر ے پیٹ پر ٹھنڈا پانی پینا مفید ہے۔ جس سے زیادہ حرارت معدہ میں نہیں قرار پاتی بلکہ اس سے ہضم کا کام بھی تا خیر پاتا ہے۔ ناشتے میں پانی کا پینا بھوک کو تحریک دیتا ہے۔

گرمی کے تیسرے مہنے کی ہدایات

اس مہینے میں دہی اور لسی کا استعمال بہت مفید ہے۔ دھی عفونت کو ختم کرنے والا اور ویٹامن بی، کا ایک بڑا خزانہ ہے۔ دھی جسم میں زہریلے مادے اور نمکیات کو زائل کر دیتی ہے۔ دھی جلدی خارشوں کا بہترین علاج ہے۔ گرمی کے موسم میں گوشت عام طور پر فاسد غذائیں غیر محفوظ اور ہوا کثیف اور آلودہ ہوتی ہے دھی کا استعمال ہی بہترین وسیلہ ہے۔ جو سب بیماریوں کے خلاف سینہ سُپر ہو جاتی ہے۔ اس ماہ جماع کرنے اور جلاب استعمال کرنے سے پرہیز کرنی چاہے اور شدید مشقت والے سخت کام بھی کم کرنے چاہیں۔

موسمِ خزاں کے پہلے مہنے کی ہدایات

اس ماہ ہوا پاکیزہ اور خو شبو دار ہو جاتی ہے۔ میٹھی چیزوں کا کھانا مفید ہے۔ اور عتدال پر گوشت کا استعمال بھی مفید ہے۔ ایک سالہ بکرے کا گوشت اور بھیڑ کا گوشت مفید ہے۔ لیکن گائے کا گوشت اور بھنے ہوئے گوشت کی زیادہ استعمال سے پرہیز کرنی چاہیے۔حمام میں جانے اور اپنے بدن کو صاف کرنے کی ممانت نہیں بلکہ گرم پانی سے نہانا خوب نہیں۔اس مہینے میں خربوزے اور پیاز سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جن سے بچنے کی ہدایت

حضرت امام محمد یاقر سے منعقول ہے کہ اگر کِسی پر جّن کا اثر ہو تو اس پر خالص اعتقاد سے سُورئہ حمد معوذتین کو تین تین بار ہر ایک پڑھے یا سُورئہ رحمن لکھے اور اس کے چاروں طرف آیتہ الکرسی لکھ دے۔ اور گلے میں ڈال دے ۔ ہر گز جن نقصان نہ پہنچائے گا۔